ads by chitika

Thursday, 4 August 2016

ابتدائی نقصان کے بعد پاکستان کی محتاط بلے بازی

برمنگھم میں انگلینڈ کے خلاف تیسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن پاکستان کی پہلی اننگز جاری ہے اور ابتدائی نقصان کے بعد پاکستانی بلے بازوں نے محتاط انداز اپنایا ہے۔
ایجبیسٹن کے میدان میں اس وقت کریز پر سمیع اسلم اور اظہر علی موجود ہیں اور اب سے کچھ دیر قبل کھانے کے وقفے پر پاکستان نے ایک وکٹ کے نقصان پر 72 رنز بنا لیے تھے۔
پاکستان کی جانب سے سمیع اسلم اور محمد حفیظ نے اننگز کا آغاز کیا تو محمد حفیظ پہلے ہی اوور میں بغیر کوئی رن بنائے جیمز اینڈرسن کی گیند پر کیچ ہوگئے۔
اس سیریز کے دوران حفیظ کوئی بھی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے ہیں اور اس میچ سے قبل بھی ان کی سلیکشن پر اعتراضات سامنے آئے تھے۔
انگلینڈ کی ٹیم میچ کے پہلے دن اپنی پہلی اننگز میں 297 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔
میزبان ٹیم کی جانب سے گیری بیلنس اور معین علی نے نصف سنچریاں بنائیں۔ بیلنس 70 جبکہ معین علی 63 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
ان کے علاوہ الیسٹر کک نے 45 رنز کی اننگز کھیلی۔
پاکستان کی جانب سے پانچ برس کے وقفے کے بعد ٹیسٹ ٹیم میں جگہ بنانے والے سہیل خان 96 رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کر کے سب سے کامیاب بولر رہے۔
ان کے علاوہ محمد عامر اور راحت علی نے دو، دو جبکہ یاسر شاہ نے ایک وکٹ لی تھی۔
پاکستان نے اس میچ کے لیے ٹیم میں دو تبدیلیاں کی ہیں اور شان مسعود اور وہاب ریاض کی جگہ سمیع اسلم اور سہیل خان کو ٹیم کو جگہ دی گئی ہے۔
انگلینڈ کی ٹیم میں زخمی ہونے والے آل راؤنڈر بین سٹوکس کی جگہ سٹیون فن کی واپسی ہوئی ہے۔
بین سٹوکس پنڈلی میں تکلیف کی وجہ سے پہلا ٹیسٹ بھی نہیں کھیل پائے تھے اور اب انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ چوتھے ٹیسٹ میں بھی شریک نہیں ہو سکیں گے۔

’پاکستان شدت پسندی کے خلاف دنیا کی مدد کر رہا ہے‘

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ اپنی سر زمین پر دہشت گردوں کے خلاف نہ صرف کارروائیاں کر رہا ہے بلکہ وہ شدت پسندی کے خلاف لڑائی میں دنیا کی ہر ممکن مدد بھی کر رہا ہے۔
اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار خدائے نور ناصر نے بتایا کہ دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان شدت پسندوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا اور اپنی سر زمین کو دہشت گروں کی پناہ گاہیں بننے نہیں دے گا۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کا بیان یہ بیان امریکہ کی جانب سے پاکستان کی 30 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد روک دینے کے بعد سامنے آیا ہے۔
نفیس ذکریا کا مزید کہنا تھا کہ امریکی کانگریس کے سینیئر ارکان اور میڈیا کے نمائندے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ان مقامات کا دورہ کر چکے ہیں جنھیں شدت پسندوں سے پاک کر لیا گیا ہے اور وہاں ترقیاتی کام جاری ہیں۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق امریکی اہلکاروں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں کے دورے کے دوران آپریشن ضربِ عضب میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سراہا تھا اور ان پر اطمینان کا اظہار بھی کیا تھا۔
واضح رہے کہ امریکی محکمۂ دفاع نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف ٹھوس کارروائی نہ کرنے کے الزام میں پاکستان کو دی جانے والی فوجی امداد کے 30 کروڑ ڈالر روک دیے ہیں۔
پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق سیکریٹری دفاع ایش کارٹر نے وہ سرٹیفیکیٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے جس سے یہ رقم پاکستان کو مل سکتی تھی۔
كولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت سنہ 2002 سے ہی امریکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں پاکستان فوجی مدد کرتا رہا ہے۔
یہ ایک طرح سے وہ رقم ہوتی ہے جو پاکستان کہتا ہے کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف كارروائی میں خرچ کی ہے۔
کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزارت دفاع کا یہ فیصلہ پاکستانی فوج کے لیے بڑا دھچکا ہے کیونکہ وہ برسوں سے اس رقم کو اپنے بجٹ کا حصہ سمجھتے آئے ہیں۔
محکمۂ دفاع کے مطابق كولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت سب سے زیادہ امداد اب تک پاکستان کو دی گئی ہے اور سنہ 2002 سے اب تک اسے 14 ارب ڈالر دیے جا چکے ہیں۔